بسم الله الرحمن الرحيم
وصل اللهم وبارك وسلم علٰی عبدك ورسولك محمد وعلٰی اٰله وصحبه اجمعين

تمام مسائل کا حل

حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن دامت برکاتہم

گزشتہ دنوں حیدرآباد کے ایک مدرسہ کے جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر مہتمم صاحب کے شکوہ کیا کہ مدسہ انتہائی تنگ جگہ پر واقع ہے اور مدرسہ سے متصل پلاٹ برائے فروخت تھا مگر چند ایک افراد نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ مدرسہ کی توسیع ہمارے لئے مسائل پیدا کرے گی اور اس بنا پر مدرسہ وہ پلاٹ حاصل نہ کر‌سکا! یہ سن کر مجھے انتہائی تعجب اور افسوس ہوا کہ اسکول یا کالج کے قیام سے مسائل پیدا نہیں ہوتے لیکن مساجد و‌مدارس کے قیام سے مسائل پیدا ہو‌رہے ہیں! یہ بھی ایک پروپگینڈا ہے جو ملک کے ارباب حل و‌عقد کچھ عرصہ سے کر‌رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس و‌مساجد معشرہ کیلئے مسائل اور مشکلات کھڑی کرنے کا باعث ہیں۔ میں تھوڑی دیر کیلئے ماضی کے آئینہ میں جھانک کر مدینہ منورہ کی نوزائیدہ مملکت کے بارے میں سوچنے لگا کہ یہ مملکت ابھی قائم ہوئی ہے۔ اس نومولود مملکت کے لئے بے پناہ مشکلات ہیں۔ مسائل کا انبار ہے، مہاجرین لٹے پٹے آئے ہیں۔ مدینہ منورہ کی مختصر سی آبادی والے شہر پر سینکڑوں افراد کا بوج پڑ گیا ہے۔ سیاسی مسائل حل طلب ہیں۔ تعلیمی معاملات کو سنوارنے کی ضرورت ہے۔ عدالتی فیصلے تصفیہ طلب ہیں۔ تجارت و‌زراعت کے مسائل ہیں۔ معاشرتی اور نجی مسائل ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی سب سے پہلے جس کام پر اپنی توجہ مرکوز فرمائی وہ مسجد و‌مدرسہ کا قیام ہے۔

یہاں دو یتیموں کا ایک پلاٹ تھا ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر آمادہ تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمیں شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال ہو‌جائے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و‌سلم نے بلا معاوضہ وہ پلاٹ قبول نہیں فرمایا، دس دینار قیمت طے پائی اور آپ نے جضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کی ادائگی کا حکم دیا اور اس جگہ پر مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کیلئے استعمال ہوئے اور اس طرح سادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔ مسجد سے متصل ایک چبوترہ بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہ تھا۔ اب رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے معاشرہ کے مسائل کی طرف توجہ فرمائی، اسی مسجد کے سنگریزوں پر بیٹھ کر تمام مسائل کو قرآن کریم کی روشنی میں حل فرمایا۔ آپ کی تمام اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں یہیں سے انجام پاتی تھیں۔ سینکڑوں کے حساب سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اس چھوٹی سی بستی میں منتقل ہونے کے نتیجہ میں آبادی کے مسائل تھے اور ان نووارد افراد کو معاشرہ میں ضم کرنے کے مسائل تھے۔ اس مسئلہ کو مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کر مؤاخات کی شکل میں حل کیا گیا۔ نئی مملکت کے تمام سیاسی مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے اس مسجد نے پارلیمنٹ ہاؤس کا کردار ادا کیا۔ عدالتی فیصلوں کے لئے اسی مسجد نے سپریم کورٹ کا کردار ادا کیا۔ ہر قسم کی تعلیمی کاروائیاں اسی مسجد سے سرانجام پانے لگیں۔ تمام رفاہی کاموں کا مرکز یہی مسجد قرار پائی۔ تجارت و‌زراعت کے مسائل کے لئے یہی کامرس چیمبر اور یہی ایگریکلچر ہاؤس قرار دیا گیا۔ دفاعی اقدامات اور جنگی حکمت عملی کے لئے بھی یہی مسجد بطور مرکز استعمال ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و‌سلم نے جب کسی علاقے میں جہاد کیلئے لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسی مسجد سے اس کی تشکیل کی جاتی اور ایک موقع پر مجاہدین نے جہاد کی تربیت کا مرحلہ بھی اس مسجد کے صحن میں مکمل کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے اور عید کے روز مسجد نبوی کے صحن میں وہ نیزہ بازی کی مشق کر‌رہے تھے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و‌سلم کی اوٹ میں کھڑے ہو‌کر دیکھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد و‌مدرسہ کو مسلم معاشرہ کا محور بنا دیا تھا اور مسجد و‌مدرسہ کا کردار زندگی کے ہر شعبہ پر محیط تھا، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے صدیوں کے الجھے ہوئے تمام مسائل حل ہو‌گئے اور مدینہ منورہ کا معاشرہ دنیا کے لئے ایک عظیم الشان مثال بن گیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مسجد مسلمان کی زندگی کی تکون [TRIANGLE] میں قاعدہ [BASE] کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان کی گھریلو اور معاشی زندگی اس کے دو بازو ہیں، جبکہ مسجد اس کے لئے بیس اور بنیاد ہے۔ مسلمان کی زندگی مسجد کے ساتھ اس طرح مربوط ہوتی ہے کی اس کی ہر سرگرمی کی ابتدا اور انتہا مسجد پر ہوتی ہے۔

اس لئے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مساجد و‌مدارس سے مسائل جنم نہیں لیتے بلکہ یہاں سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ ہمارا عملی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مساجد و‌مدارس کے اپنے مسائل نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام پا جاتے ہیں۔ کھنڈرات میں قائم ہونے والی مسجدیں اور مدرسے وسائل سے محروم ہوتے ہیں۔ قومی بجٹ میں ان کیلئے کوئی رقم مختص نہیں ہوتی، سرکاری سطح پر عدم توجہی کا شکار ہی نہیں بلکہ قابل ذکر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں مگر اس کے باوجود یہ ادارے ترقی پزیر ہیں اور اپنے مسائل و‌مشکلات کو بہتر انداز میں حل کر‌لیتے ہیں، اس لئے مساجد و‌مدارس کے یہ ادارے قومی مسائل و‌مشکلات کو بھی بہتر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ‌ور ہیں۔

آج اگر ہماری قوم مسائل و‌مشکلات میں گھری ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے مساجد و‌مدارس کو نظرانداز کیا ہے۔ معاشرہ کو مذہبی مراکز سے دور رکھنے کی سعی نامشکور کی گئی ہے۔ اگر آج مساجد و‌مدارس کو معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر‌دیا جائے تو ہمارے تمام مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو‌سکتی ہے اور نصف صدی سے زیادہ کے مسائل پلک چھپکتے میں حل ہو‌سکتے ہیں۔

٭………٭………٭

[روزنامہ اسلام – تازہ مضمون][روزنامہ اسلام – جمع شدہ مضامین][مقابل ہے آئینہ][مقابل ہے آئینہ - پچھلے شمارے]


This is an urdu language article by Shaikh (alt. Shaykh, sheikh) ul Hadeeth (alt hadith, hadees) Moulana ( alt Mawlana, maulana) Mufti Ateeq ur Rahmaan (alt. Ateequr Rahman Atiq Atiqur Ateequr Rehman) on the need and the importance of of giving the Masjid (alt masaajid masajid) and madressah (alt madaaris madrassah madaris dar ul uloom) their proper place in the Pakistani society اسلام مسجد نبوی مدرسہ دہشت گردی گرد مسائل فرقہ واریت مدینہ منورہ اسلامی سلطنت سرکاری پروپیگینڈا مشکلات رکاوٹیں مساجد مدارس عربیہ اسلامیہ شیخ الہدیث جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی

z